سیلاب متاثرین میں 19.8 ارب روپے تقسیم

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے کہا ہے کہ ملک کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہر خاندان کو 25 ہزار روپے فراہم کیے جا رہے ہیں اور اس پروگرام کے تحت اب تک 19 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ گزشتہ روز جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ بی آئی ایس پی کے فلڈ ریلیف ایمرجنسی کیش اسسٹنس پروگرام کے تحت 793 ہزار 701 متاثرہ خاندانوں کو انسانی بنیادوں پر مالی امداد دی گئی۔

بلوچستان میں 90 ہزار 396 خاندانوں کو 2 ارب روپے، سندھ میں 466 ہزار 45 خاندانوں کو 11 ارب 60 کروڑ روپے، خیبرپختونخوا کے 98 ہزار 677 خاندانوں کو 2 ارب 40 کروڑ اور پنجاب میں 1 لاکھ 38 کروڑ روپے دیئے گئے۔ 1583 خاندانوں کو 3 ارب 40 کروڑ روپے ملے۔

متاثرہ خاندانوں میں یہ امداد تقسیم کرنے کے لیے تعطیلات کے دوران بھی ادائیگی کے تمام مراکز کھلے رکھے جاتے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ نے کیمپ سائٹس پر متعلقہ عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں متاثرہ افراد کو سہولیات فراہم کریں۔ متاثرہ خاندانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فلڈ ریلیف کیش امدادی پروگرام میں رجسٹریشن کے لیے اپنا شناختی کارڈ نمبر 8171 پر بھیجیں اور ادائیگی کا پیغام موصول ہونے کے بعد اپنے قریبی کیمپ سائٹ پر نقد رقم وصول کریں۔

یونیسیف کی جانب سے امداد

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی بچوں کے ہنگامی فنڈ (یونیسیف) نے کل سیلاب سے متاثرہ بچوں اور خواتین کی مدد کے لیے 32 میٹرک ٹن طبی اور دیگر ہنگامی سامان پہنچایا۔ ایک بیان کے مطابق، کھیپ میں ادویات، طبی سامان، پانی صاف کرنے کی گولیاں، ڈلیوری کٹس اور غذائی سپلیمنٹس شامل ہیں، مزید امداد کے لیے 34 میٹرک ٹن کی دوسری کھیپ آج آنے کی توقع ہے۔

جرمنی کی جانب سے خوراک کی امداد

جرمن دفتر خارجہ نے اعلان کیا کہ وہ کراچی میں قونصلیٹ جنرل کے ذریعے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ 1000 خاندانوں کو اگلے 2 ماہ کے لیے خوراک فراہم کر رہے ہیں۔

Add your comment